Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت دن میں حیض سے پاک ہوکر روزے کی نیت کر سکتی ہے؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13320
- Issued
- 19 رمضان المبارک 1445ھ / 30 مارچ 2024ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد حیض سے پاک ہوئی تو اس نے غسل کر لیا۔ اب اگر ہندہ شحہ کبری سے پہلے پہلے اس دن کے فرض روزے کی نیت کر لیتی ہے، تو کیا اس صورت میں ہندہ کا وہ فرض روزہ ادا ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
جی نہیں! پوچھیں گئی صورت میں ہندہ کا فرض روزہ ادا نہیں ہو گا، لہذا بعد میں اس روزے کی قضا کرنا ہندہ پر لازم ہو گا۔ چنانچہ در مختار میں ہے: ”ولونوی الحائض والنفساء لم يصح أصلا للمنافي أول الوقت وهو لا يتجزى۔“ یعنی اگر حیض و نفاس والی عورت نے دن میں روزے کی نیت کر لی تو یہ نیت اصلاً درست نہ ہو گی کہ روزے کے اول وقت میں منافی پایا گیا اور روزہ متجزى نہیں۔ (ولونوی الحائض والنفساء) کے تحت رد المختار میں ہے: ”أي قبل نصف النهار إذا طهر تافيه (قوله: لم يصح أصلا) أي لا فرضاً ولا نفلاً شرنبلالية (قوله: للمنافي إلخ) أي فإن كلا من الحيض والنفاس مناف لصحة الصوم مطلقاً؛ لأن فقد هما شرط لصحته والصوم عبادة…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.