Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفل نماز کی پہلی رکعت بیٹھ کر اور دوسری کھڑے ہوکر پڑھنا کیسا؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13309
Issued
09 رمضان المبارک 1445ھ / 20 مارچ 2024ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے نفل کی ایک رکعت بیٹھ کر پڑھی اور دوسری رکعت میں بھولے سے کھڑا ہو گیا، تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

پچھلی گئی صورت میں زید کی وہ نفل نماز درست ادا ہوئی ہے، اسے دہرانے کی حاجت نہیں۔ چونکہ نفل نماز بیٹھ کر ادا کرنا بھی جائز ہے، لہذا یہاں کوئی فرض یا واجب ترک نہیں ہوا۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ بغیر کسی عذر کے نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں ثواب میں کمی ہوگی۔ نفل نماز کی ایک رکعت بیٹھ کر اور دوسری کھڑے ہو کر پڑھنا بھی جائز ہے۔ جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ”(وَيَتَنَفَّلُ مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى الْقِيَامِ قَاعِدًا) --- (ابتداء و) --- (بناء) بعد الشروع بلا كراهة في الاصح كعكسه۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.