Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس صفحے پر صرف قرآن لکھا ہو، ناپاکی کی حالت میں اُسے چھونا کیسا؟

Answered by
ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13209
Issued
16 ہجری 1445ھ / 30 دسمبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس صفحے کے پورے یا اکثر حصے پر فقط قرآنی آیت یا اُس کا ترجمہ ہی لکھا ہو، اور کچھ نہ لکھا ہو۔ خواتین کا ناپاکی کی حالت میں ایسے صفحے کو سائیڈ سے چھونا کیسا؟

Answer (beginning)

پونچی گئی صورت میں خواتین کا ناپاکی کی حالت میں اُس صفحے کے کسی بھی حصے کو بلا حاصل چھونا، ناجائز و حرام ہے۔ یہی حکم جنہیں شخص کا بھی ہے۔ یونہی بے وضو شخص اعضاء وضو سے کوئی عضو ایسے صفحے سے مس نہیں کر سکتا کیونکہ وہ صفحہ مصحف کے حکم میں ہے۔ چنانچہ جوہرۃ النیرہ، اللباب شرح الكتاب میں ہے: ”والنظم للاول“ لا يجوز له مس شيء مكتوب فيه شيء من القرآن من لوح أو درهم أو غير ذلك إذا كان آية تامة۔ ”یعنی جس سختی، درہم وغیرہ میں قرآن کی ایک مکمل آیت لکھی ہو تو اُس سختی، درہم وغیرہ کو ناپاکی کی حالت میں چھونا، جائز نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.