Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رضاعی بہن کی سگی بہن سے نکاح کا حکم

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13210
Issued
19 جمادی الثانی 1445ھ / 02 جنوری 2024ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے چچا کی تین بیٹیاں ہیں، میں ان کی بڑی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بڑی بیٹی سے چھوٹی والی بیٹی نے میری والدہ کا دودھ پییا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ سب میری بہنیں ہو گئی ہیں، اس لئے میری اور ان کی بڑی بیٹی کی شادی نہیں ہو سکتی۔ اس حوالے سے شریعت کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

اپنی رضاعی بہن کی سگی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے، ایک بہن کے دودھ پی لینے کی وجہ سے اس کی سگی بہن، اس کے رضاعی بھائیوں کے لئے حرام نہیں ہوتی جب کہ کوئی اور وجہ حرمت نہ پائی جاتی ہو۔ پوچھی گئی صورت میں آپ کے چچا کی وہ بیٹی جس نے آپ کی والدہ کا دودھ پییا صرف وہ آپ کی رضاعی بہن کہلائے گی اس سے نکاح کسی صورت جائز نہیں، البتہ اس کی بڑی بہن سے آپ کا نکاح کرنا بالکل جائز ہے جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں ایک بہن کے دودھ پینے کی وجہ سے دوسری بہن بھی حرام ہو گئی، ان کا یہ کہنا بالکل غلط ہے، انہیں اس طرح کی باتیں کرنے سے اجتناب لازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.