Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شوہر کا بیوی کے مہر سے خریدی ہوئی چیز کھانا کیسا؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13184
- Issued
- 05 جمادی الثانی 1445ھ / 19 اکتوبر 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوی نے اپنے مہر کے پیسوں سے کوئی چیز خریدی تو شوہر وہ چیز کھا سکتا ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
اگر بیوی اپنی دلی خوشی سے مہر کی رقم سے کوئی چیز منگوا کر شوہر کو دے، تو شوہر کا اسے کھانا گناہ نہیں بلکہ جائز اور باعث برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ”وَأَتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۖ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا“ ترجمہ کنزالایمان: اور عورتوں کے ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ اپنے دلی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچنا پچنا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.