Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوٰۃ ادا کرنے کا وکیل زکوۃ کی رقم خود رکھ سکتا ہے؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13119
Issued
02 جمادی الاولیٰ 1445ھ / 17 نومبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زکوٰۃ کا وکیل اگر خود ہی مستحق زکوٰۃ ہو، تو کیا وہ زکوٰۃ کی رقم کو اپنی ذات پر بھی خرچ کر سکتا ہے؟ کیا اس کی کوئی گنجائش نکلتی ہے؟

Answer (beginning)

زکوٰۃ کے وکیل کا اپنی ذات پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا، جائز نہیں، مگر یہ کہ مالک نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو اسے خرچ کرو، تو اس صورت میں وہ مستحق زکوٰۃ ہونے کی صورت میں خود بھی رکھ سکتا ہے۔ زکوٰۃ کا وکیل اپنی ذات پر زکوٰۃ کب خرچ کر سکتا ہے اور کب نہیں؟ اس سے متعلق فتاویٰ شامی، بحر الرائق وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے: ”والنظم للآخر“ فی الظہیریة: رجل دفع زکاة ماله إلى رجل وأمره بالاداء فأعطى الوکیل ولد نفسه الکبیر أو الصغیر أو امرأته وهم محاویج جاز ولا یمسک لنفسه شیئا، ولو أن صاحب المال قال له ضعه حیث شئت له أن یمسک لنفسه اھ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.