Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا صرف نابالغ بچوں کے ساتھ بھی جماعت ادا ہوسکتی ہے؟

Answered by
مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری
Fatwa no.
Nor-13132
Issued
08 جمادی الاولیٰ 1445ھ / 23 نومبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام صاحب بچوں کو مسجد میں قرآن پاک پڑھاتے ہیں، کبھی کبھار ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ نماز عصر میں ان بچوں کے علاوہ باہر سے کوئی مرد نمازی مسجد میں نہیں آتا، تو امام صاحب انہی بچوں کے ساتھ جماعت قائم کر لیتے ہیں، بچوں کی عمر 5 سے 12 سال کے درمیان ہے۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ان بچوں کے ساتھ جماعت ادا ہو سکتی ہے؟

Answer (beginning)

جمعہ اور عیدین کے علاوہ دیگر نمازوں کی جماعت منعقد ہونے کے لئے امام کے ساتھ کم از کم کسی ایک مقتدی کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ سمجھ دار بچہ ہی کیوں نہ ہو، لہذا پوچھی گئی صورت میں ان سمجھدار بچوں کے ساتھ بھی جماعت ادا ہو جائے گی۔ جماعت منعقد ہونے کے لئے کم سے کم تعداد کے حوالے سے بدائع الصنائع میں ہے: ”فاقل من تنعقد به الجماعة اثنان، وهو ان يكون مع الامام واحد، --- سواء كان ذلك الواحد رجلاً، او امراً، او صبياً يعقل، --- واما المجنون والصبي الذي لا يعقل فلا عبرة بهما؛ لانهما ليسا من اهل الصلاة فكانا ملحقين بالعدم“ یعنی کم سے کم وہ تعداد جس سے جماعت منعقد ہو جاتی ہے دو افراد ہیں اور وہ امام کے ساتھ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.