Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دعائے قنوت بھولنے کی صورت میں ادھوری چھوڑ کر نماز مکمل کی، تو کیا حکم ہے؟

Answered by
مفتی ابومحمد علی اصغر عطاری
Fatwa no.
Nor-12840
Issued
2023/12/23

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے وتر میں دعائے قنوت پڑھنا شروع ہی کی تھی کہ وہ اس دعا کو بھول گیا زید نے پیچھے سے الفاظ دہرائے لیکن اسے دعا یاد نہیں آئی جس پر زید نے مجبوراً دعائے ماثورہ پڑھ کر نماز پوری کی پھر آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کیا۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں زید کی وہ نماز وتر درست ادا ہو گئی؟

Answer (beginning)

نماز وتر میں مشہور دعائے قنوت پڑھنا سنت ہے اگر نماز ہی نے اس معروف دعا کی جگہ کوئی اور دعا پڑھ لی جب بھی اس کا دعا نے قنوت والا واجب ادا ہو جائے گا۔ لہذا اپوچھی گئی صورت میں زید کی وہ نماز وتر درست ادا ہوئی ہے اور زید پر سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوا کہ واجبات نماز میں سے کسی واجب کو بھولے سے چھوڑنے کی بنا پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے جبکہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ وتر میں مشہور دعائے قنوت پڑھنا سنت ہے۔ جیسا کہ مختار میں ہے: ”ویسن الدعاء المشهور“ یعنی (وتر میں) مشہور دعا پڑھنا سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.