Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں سلام پھیرتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ پھیرنے کا حکم
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13096
- Issued
- 23 ربیع الثانی 1445ھ / 08 نومبر 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے چہرہ پھیرنے کا کیا حکم ہے؟ واجب ہے یا سنت؟
Answer (beginning)
نماز کے آخر میں دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے چہرہ پھیرنا واجب نہیں البتہ سنت یہ ہے کہ پہلا سلام کہتے ہوئے سیدھی جانب چہرہ پھیرے اور دوسرا سلام کہتے ہوئے بائیں جانب چہرہ پھیرے۔ مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: ”ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یسلم عن یمینہ: السلام علیکم ورحمة اللہ، حتی یری بیاض خدہ الایمن وعن یسارہ السلام علیکم ورحمة اللہ حتی یری بیاض خدہ الایسر“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں جانب یوں سلام پھیرتے السلام علیکم ورحمة اللہ حتی کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی تھی اور اپنی بائیں جانب منہ پھیر کر السلام علیکم…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.