Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا گونگے کا ذبیحہ حلال ہے؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13052
- Issued
- 04 ربیع الثانی 1445ھ / 20 اکتوبر 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا گونگے کا ذبیحہ حلال ہے؟ اسلام اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے؟
Answer (beginning)
مسلمان اور کتابی گونگے کا ذبیحہ حلال ہے۔ واضح رہے کہ کتابی گونگے کا ذبیحہ اسی وقت حلال ہے جب وہ واقعی کتابی ہو اور تکبیر پڑھ کر حلال جانور کو ذبح کرے، ورنہ اگر صرف نام کا کتابی (یہودی، نصرانی) ہو اور حقیقی تبحری اور دہریہ مذہب رکھتا ہو، جیسا کہ غیر مسلم ممالک میں آج کل کے نصاریٰ کہلانے والوں کا حقیقت میں کوئی مذہب ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ دہریے ہوتے ہیں، تو ایسے نام کے کتابی کا ذبیحہ بلاشبہ حرام و مردار ہے۔ مسلمان اور کتابی گونگے کا ذبیحہ حلال ہے۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری ہے: ”تو کل ذبیحہ الآخر س مسلما کان أو کتابیا، کذا فی فتاویٰ قاضی خان۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.