Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آیتِ سجدہ کا ترجمہ سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13046
- Issued
- 03 ربیع الثانی 1445ھ / 19 اکتوبر 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قاری نے آیتِ سجده کاتر جمہ پڑھایا جبکہ سننے والے کو ایک دن بعد علم ہوا کہ یہ تو آیتِ سجده کاتر جمہ تھا۔ تو کیا اس صورت میں آیتِ سجده کاتر جمہ سننے والے پر سجده تلاوت واجب ہوگا؟
Answer (beginning)
جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں آیتِ سجده کاتر جمہ سننے والے شخص پر سجده تلاوت واجب ہوگا۔ چنانچہ فتاویٰ عالمگیری وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے: ”إذا قرأ آية السجدة بالفارسية فعليه وعلى من سمعها السجدة فهم السامع أو لا إذا أخبر السامع أنه قرأ آية السجدة وعندهم إن كان السامع يعلم أنه يقرأ القرآن يلزمه وإلا فلا، كذا في الخلاصة، وقيل: تجب بالإجماع هو الصحيح، كذا في محيط السرخسي“ یعنی جب کوئی شخص فارسی زبان میں آیتِ سجده پڑھے تو اس پر اور جس نے اس آیت کو سنا اس پر بھی سجده تلاوت واجب ہوگا خواہ سننے والے نے اسے سمجھا ہو یا نہ سمجھا ہو، جبکہ پڑھنے والا سامع کو خبر دے دے کہ اس نے آیتِ سجده کی تلاوت کی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.