Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ نہ اٹھانے کا شرعی حکم ؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13038
Issued
29 ربیع الاول 1445ھ / 16 اکتوبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازیں اگر تکبیر تحریمه کے وقت ہاتھ نہ اٹھائے، تو کیا اس صورت میں وہ نماز دوبارہ ادا کرنا ہو گی؟ یا پھر سجدہ سہو کر لینے سے بھی نماز درست ادا ہو جائے گی؟

Answer (beginning)

تکبیر تحریمه کہتے وقت ہاتھوں کو اٹھانا سنتِ مؤکدہ ہے، لہذا بلا عذر شرعی جان بوجھ کر تکبیر تحریمه کے وقت ہاتھ نہ اٹھانا، اساءت (یعنی براعمل) ہے جبکہ اس کی عادت بنالینا، ناجائز و گناہ ہے۔ البتہ اگر کوئی تکبیر تحریمه کہتے وقت بھول کر یا جان بوجھ کر ہاتھوں کو بلند نہ کرے، بہر صورت اس کی نماز ہو جائے گی، نہ تو نماز کو دہرانا لازم ہو گا اور نہ ہی سجدہ سہو واجب ہو گا کہ نماز کی کسی سنت کو ترک کر دینے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ تکبیر تحریمه کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا سنتِ مؤکدہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.