Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازِ فجر یا عصر کی سنتیں توڑدیں تو کب پڑھی جائیں؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13021
- Issued
- 18 ربیع الاول 1445ھ / 05 اکتوبر 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز فجر یا عصر کی سنتیں اگر توڑ دیں یا فاسد ہو گئیں، تو کیا وقت باقی ہونے کی صورت میں فرض پڑھنے سے پہلے یا فرض پڑھنے کے بعد اسی وقت پڑھ سکتے ہیں؟ دونوں صورتوں کا حکم بیان فرمادیں۔
Answer (beginning)
نماز فجر یا عصر کی سنتیں اگر توڑ دی جائیں یا فاسد ہو جائیں، دونوں ہی صورتوں میں ان کی قضا کرنا واجب ہے، لہذا فرض سے پہلے ہی اگر ان کی قضا کر لی جائے تو وہ سنتیں ادا ہو جائیں گی۔ البتہ فرض پڑھ لینے کے بعد ان سنتوں کی قضا کرنا شرعاً جائز نہیں کہ یہ قضا نماز واجب لغیرہ ہے جو ایک اعتبار سے نفل کے حکم سے ملحق ہے۔ اور نماز فجر و عصر کے بعد کسی بھی قسم کی نفل نماز پڑھنا جائز نہیں۔ ان سنتوں کی قضا ایسے وقت میں پڑھی جائے گی جس میں نفل نماز پڑھنا جائز ہے۔ مثلاً عصر کی سنتیں کسی وجہ سے نیت باندھ کر توڑ دیں پھر عصر کا مکروہ وقت شروع ہو گیا، اب صرف فرض پڑھے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.