Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اولاد نہ ہو تو بیوی کو وراثت میں حصہ ملے گا؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-12998
Issued
یکم ربیع الاول 1445ھ / 18 ستمبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو، تو شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حق ہو گا یا نہیں؟ اور اگر شوہر کے دیگر ورثا بیوہ کا حصہ نہ دیں، تو کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

پڑھی گئی صورت میں وراثت تقسیم کرنے سے پہلے لازم ہونے والے حقوق کی ادائیگی یعنی میت کی تجہیز و تکفین و تدفین کا خرچ، میت کے ذمہ اگر کوئی قرض تھا، تو اس کی ادائیگی اور اگر اس نے کوئی جائز وصیت کر رکھی تھی تو ایک تہائی تر کے کی حد تک وصیت نافذ کرنے کے بعد شوہر کی تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا چوتھا حصہ (1/4) اس کی بیوہ کو دیا جائے گا۔ یہی خدائے احکم الحاکمین جل جلالہ کا فیصلہ ہے کہ جب مرنے والے شخص کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کی بیوہ کو کل جائیداد کا چوتھا حصہ ملتا ہے۔ اگر خاوند کے ورثا اس کی بیوہ کو پورا حصہ نہیں دیں گے تو سخت گناہ گار، حق العبد میں گرفتار اور مستحق عذاب نارہوں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.