Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس شخص کی بیوی سیدہ ہو اسے زکوٰۃ دینا کیسا ؟

Answered by
ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13003
Issued
02 ربیع الاول 1445ھ / 19 ستمبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس شخص کی بیوی سیدہ ہو کیا اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے جبکہ وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو؟ اگر زکوٰۃ دی جاسکتی ہے تو اس کی زکوٰۃ میں ظاہر ہے اس کی سیدہ بیوی بھی تصرف کرے گی؟ اس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟

Answer (beginning)

پچھلی گئی صورت میں سیدہ کا شوہر اگر سیدہ ہاشمی نہ ہو اور شرعی فقیر بھی ہو تو اسے زکوٰۃ دے سکتے ہیں، سیدہ سے نکاح کے سبب وہ سیدہ نہیں کہلائے گا۔ البتہ شوہر وہ زکوٰۃ کی رقم آگے اپنی سیدہ بیوی کو دے گا تو اس کی حیثیت اب زکوٰۃ کی نہیں ہوگی بلکہ تحفے اور نذرانے کی ہوگی اور شرعاً سیدہ تحفہ قبول کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔ شرعی فقیر زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ”(باب المصرف) ای مصرف الزکاة والعشر۔۔۔ (هو فقیر، وهو من له ادنیٰ شیء) ای دون نصاب“ یعنی زکوٰۃ اور عشر کا ایک مصرف فقیر بھی ہے اور فقیر سے مراد وہ شخص ہے جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.