Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فجر کی سنتیں فاسد کردیں تو ان کی قضا فرضوں کے بعد ہوسکتی ہے؟

Answered by
ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-12996
Issued
28 صفر 1445ھ / 15 ستمبر 2023ء

Question

زید نے فجر کی سنتوں کی نیت باندھی پھر دوران نماز ہی سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہو گیا، اب کیا زید جماعت کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے ان سنتوں کی قضا کر سکتا ہے؟

Answer (beginning)

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر نمازی نے فجر کی سنتیں شروع کر کے توڑ دی ہوں تو فرض پڑھنے کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے ان سنتوں کی قضا کرنا جائز نہیں کہ یہ قضا نماز واجب لغیرہ ہے جو ایک اعتبار سے نقل کے حکم سے ملحق ہے، اور نماز فجر کے بعد کسی بھی قسم کی نقل نماز پڑھنا جائز نہیں۔ فجر کی سنتیں فاسد کر دیں توان کی قضا فرض کے بعد جائز نہیں۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری وغیرہ کتب فقہیہ میں ہے: ”لو أفسد سنة الفجر ثم قضاها بعد صلاة الفجر لم يجزه كذا في محيط السرخسي“ یعنی نمازی نے فجر کی سنتیں شروع کر کے فاسد کر دیں پھر فجر کی نماز کے بعد ان کی قضا کی، تو یہ جائز نہیں، ایسا محیط سرخسی میں مذکور ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.