Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فجر کا وقت شروع ہونے میں ایک منٹ ہو تو نمازِ تہجد شروع کرنا کیسا؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-12966
Issued
06 صفر / 1445ھ / 24 اگست 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز فجر کا وقت شروع ہونے میں ایک منٹ ہی باقی رہ گیا ہو، تو کیا اس وقت نماز تہجد ادا کر سکتے ہیں، جبکہ یہ یقینی طور پر معلوم ہو کہ ایک منٹ میں فقط ایک ہی رکعت ادا ہو سکے گی۔ کیا اس صورت میں وہ نماز تہجد ادا ہو جائے گی؟

Answer (beginning)

نماز فجر، جمعہ اور عیدین کے علاوہ دیگر نمازوں میں اصول یہ ہے کہ نمازی نے اگر وقت کے اندر تکبیر تحریمہ کہہ لی تو وہ نماز درست ادا ہوگی، لہذا نماز تہجد کی درست ادائیگی کے لیے صرف اتنا ضروری ہے کہ نمازی نے فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے تہجد کی نیت باندھ لی ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ پوچھی گئی صورت میں نماز عشاء کا وقت ختم ہونے سے ایک منٹ پہلے بھی نماز تہجد ادا کر سکتے ہیں۔ فجر، جمعہ اور عیدین کے علاوہ کسی بھی نماز کو وقت میں شروع کر لیا تو وہ نماز ادا ہو جائے گی۔ جیسا کہ در مختار میں ہے: ”وبالتحریمة فقط بالوقت یکون أداء عندنا“ یعنی ہمارے نزدیک وقت میں تکبیر تحریمہ کہہ لینے سے نماز ادا ہو جاتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.