Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتر کی پہلی یا دوسری رکعت میں بھولے سے دعائے قنوت پڑھنے کا حکم

Answered by
ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-12885
Issued
05 ذوالحجہ الحرام 1444ھ / 24 جون 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی نمازی بھولے سے نماز وترکی پہلی یاد وسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھ لے، تواب کیا اسے تیسری رکعت میں پھر سے دعائے قنوت پڑھنا ہوگی؟ نیز کیا سجدہ سہو بھی کرنا ہوگا؟

Answer (beginning)

پہلی گنی صورت میں نمازی تیسری رکعت میں دوبارہ سے دعائے قنوت پڑھے گا اور نماز کے آخر میں سجدہ سہو بھی کرے گا، کیونکہ رائج قول کے مطابق نمازی اگر بھولے سے نماز وترکی پہلی دور رکعت میں سے کسی رکعت میں دعائے قنوت پڑھ لے تواب وہ تیسری رکعت میں دوبارہ دعائے قنوت پڑھے گا۔ صورتِ مسئولہ میں سجدہ سہو واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قراءت کے فوراً بعد رکوع کرنا واجب ہے، اور وترکی پہلی دور رکعت میں قراءت کے بعد دعائے قنوت پڑھنے سے چونکہ یہ واجب ترک ہوا، لہذا سہو اس واجب کو ترک کرنے کی بنا پر سجدہ سہو بھی واجب ہوگا۔ بھول کر پہلی یاد وسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھ لی تو رائج قول کے مطابق تیسری میں پھر پڑھے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.