Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ساس محرم ہے؟ داماد کے سامنے ساس کی نماز ہوجائے گی؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-12908
Issued
26 ذوالحجہ الحرام 1444ھ / 15 جولائی 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ بارے میں کہ کیا میری ساس میرے لیے محرم ہے؟ کیا میرے سامنے میری ساس کی نماز ہو سکتی ہے؟

Answer (beginning)

ساس محارم عورتوں میں سے ہے کہ وہ بیوی کی ماں ہے۔ اس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے، لہذا داماد کا ساس سے پردہ نہیں، داماد کی موجودگی میں ساس نماز پڑھ سکتی ہے۔ البتہ فقہا کے کرام کی تصریحات کے مطابق ساس جو ان ہو تو کچھ چیزوں میں احتیاط کی حاجت ہوگی مثلاً ساتھ سفر کرنا، خلوت اختیار کرنا وغیرہ۔ داماد کے لیے ساس محرم ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”أُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ“ ترجمہ کنزالایمان: (حرام ہوئیں تم پر) عورتوں کی مائیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.