Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کی طرف اپنے گھر کا پرنالہ نکالنا اور مسجد میں پانی گرانا کیسا؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-12941
Issued
19 محرم الحرام 1445ھ / 07 اگست 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے مسجد سے بالکل ہی متصل اپنا گھر بنایا ہے۔ کچھ عرصہ قبل چھت پر موجود پرنالے پر ایک بڑا پائپ لگا کر اُس پائپ کا رخ مسجد کے احاطے کی طرف کر دیا ہے۔ اس پائپ سے بارش کا پانی، یونہی ٹینکی بھر جانے کی صورت میں آنے والا پانی مسجد کے احاطے میں پریشر کے ساتھ گرتا ہے، جس سے مسجد کے فرش کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ چونکہ یہ پائپ مسجد کی محراب کے بالکل سامنے ہی لگایا گیا ہے تو اس سے گرنے والے پانی کی چھینٹوں سے مسجد کی دیوار اور محراب کا دروازہ بھی آلودہ ہو جاتا ہے، اور اگر کبھی محراب کا دروازہ کھلا ہو تو پانی کی چھینٹوں سے محراب مسجد کا فرش بھی کافی آلودہ ہو جاتا ہے۔ آپ سے معلوم یہ کرنا کہ کیا مسجد انتظامیہ کو شرعاً اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ زید کے اس پرنالے کو بند کروائے؟

Answer (beginning)

مسجد اللہ پاک کا بابرکت اور عظمت والا مبارک گھر ہے، اس گھر کی تعظیم کرنا اور اس کے آداب کا خیال رکھنا ہر مسلمان پر شرعاً لازم و ضروری ہے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مساجد کو پاک و صاف رکھیں اور ہر گز ہر گز ایسا کوئی بھی کام نہ کریں جو مسجد کی تعظیم اور اس کے آداب کے خلاف ہو۔ مسجد کے تقدس کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مسجد میں وضو کرنا، تھوٹکنا، رینٹھ اور بلغم وغیرہ نکالنا سخت ممنوع و مکروہ ہے کہ اس سے مسجد آلودہ ہوتی ہے نیز مسجد کو ہر قسم کی آلودگی اور گندگی سے بچانا واجب ہے اگرچہ وہ پاک چیز ہی کیوں نہ ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.