Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نانی اپنے نواسے کو زکوٰۃ دے سکتی ہے؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-12977
- Issued
- 12 صفر 1445ھ / 30 اگست 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نانی اپنے محتاج نواسے کو زکوٰۃ دے سکتی ہے؟ جبکہ اُسے گزر بسر میں کافی مشقت کا سامنا ہو۔
Answer (beginning)
اپنی فروع (اولاد، پوتا پوتھی، نواسہ نواسی وغیرہ نیچے تک) کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ اگر انہیں زکوٰۃ کی رقم وغیرہ کا مالک بنادیا، تب بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، لہذا پوچھی گئی صورت میں نانی کا اپنے غریب نواسے کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ البتہ ممکنہ صورت میں نانی زکوٰۃ کے علاوہ نفلی مال سے اس غریب نواسے کی مدد کرتی ہے تو یہ بہت عمدہ نیکی ہے اور اس میں صلہ رحمی بھی ہے۔ اپنی اولاد کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.