Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کا وقت شروع ہوتے ہی اذان سے پہلےعورت كا نمازِ ظہر ادا کرنا کیسا؟
- Answered by
- ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-12942
- Issued
- 20 محرم الحرام 1445ھ / 08 اگست 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی عورت ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد ظہر کی اذان سے پہلے ہی تقریباً 12:45 بجے نماز ظہر ادا کر لے، تو کیا اس کی وہ نماز ادا ہو جائے گی؟
Answer (beginning)
نماز کی درست ادائیگی کے لیے وقت کا پایا جانا ضروری ہے اور ظہر کا وقت سورج ڈھلتے ہی شروع ہو جاتا ہے لہذا اگر کوئی عورت ظہر کا وقت شروع ہوتے ہی اذان سے پہلے اول وقت میں ہی نماز ظہر ادا کر لے تب بھی اس کی وہ نماز ادا ہو جائے گی۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ عورتوں کے لیے مستحب یہ ہے کہ فجر کی نماز ہمیشہ اول وقت میں ادا کریں اور باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے کہ مردوں کی جماعت کے بعد پڑھیں۔ ظہر کا وقت سورج ڈھلتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.