Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالتِ نماز میں ہاتھ یا پاؤں کی انگلیاں چٹخانے کا حکم؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-12918
- Issued
- 30 ذوالحجہ الحرام 1444ھ / 19 جولائی 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حالتِ نماز میں ہاتھ یا پاؤں کی انگلیاں چٹخانے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
حالتِ نماز میں انگلیاں چٹخانہ مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے خواہ ہاتھ کی انگلیاں چٹخانے جائیں یا پاؤں کی۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ”یکروہ ان یشبک اصابعہ وان یفرقع کذافی فتاویٰ قاضی خان والفرقعة ان یغمزھاو یمدھاحتی تصوت کذافی النھایۃ“ یعنی تشبیک اصابع (ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنا) اور انگلیاں چٹخانہ مکروہ ہے ایسا ہی فتاویٰ قاضی خان میں ہے اور انگلیاں چٹخانہ یہ ہے کہ ان کو دبائے یا کھینچے یہاں تک کہ آواز نکل آئے ایسا ہی نہایہ میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.