Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی نے غیر نمازی سے آیتِ سجدہ سنی ،تو سجدۂ تلاوت واجب ہوگا یا نہیں؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-12892
Issued
15 ذوالحجہ الحرام 1444ھ / 04 جولائی 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی نے غیر نمازی سے آیتِ سجدہ سنی، تو کیا نمازی پر سجدہ تلاوت واجب ہے؟ اور یہ سجدہ نماز میں ہی کرنا ہو گا یا نماز مکمل کرنے کے بعد کرنا ہو گا؟

Answer (beginning)

نماز پڑھنے والے نے ایسے شخص سے آیتِ سجدہ سنی جو نماز میں نہیں، تو نماز پڑھنے والے پر آیتِ سجدہ سننے کی وجہ سے سجدہ تلاوت واجب ہو جائے گا، البتہ یہ سجدہ تلاوت نماز مکمل ادا کرنے کے بعد کرنا ہو گا، نماز میں ادا کر لیا تو کافی نہیں ہو گا بلکہ نماز مکمل کرنے کے بعد دوبارہ کرنا ہو گا۔ محیط رضوی میں ہے: ”لو سمعها مصل من غيره تلزمه اذا سلم لانها ليست بصلاتية“ یعنی اگر نماز پڑھنے والے نے کسی دوسرے سے آیتِ سجدہ سنی، تو اس پر سجدہ تلاوت کرنا لازم ہے جب سلام پھیرے، کیونکہ یہ نماز کا سجدہ نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.