Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گھر کی دیوار پر جاندار کی تصاویر لگانا کیسا؟
- Answered by
- مفتی ہاشم خان عطاری مدنی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2024ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ گھروں میں زینت و آرائش کے لیے دیواروں پر شیر، گھوڑوں، اور دوسرے جانوروں کی تصاویر لگاتے ہیں، جن میں ان جانوروں کی شکلیں واضح ہوتی ہیں، کیا ایسی تصاویر لگانا جائز ہے؟
Answer (beginning)
گھروں میں دیواروں پر جانوروں کی ایسی تصاویر لگانا کہ جس میں ان کی شکلیں واضح ہوں، ناجائز و گناہ اور گھر میں رحمت کے فرشتے آنے سے مانع (رکاوٹ) ہے کیونکہ دیواروں پر کسی جاندار کی تصویر لگانا، اس تصویر کی تعظیم ہے اور شریعت مطہرہ نے کسی جاندار کی تصویر بنانے، بنوانے اور اس کو بطور تعظیم رکھنے کو حرام فرمایا ہے۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net daruliftaahlesunnat DaruliftaAhlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.