Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بالوں کی پی آر پی کروانا کیسا؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2024ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا بالوں کے لئے پی آر پی کرواسکتے ہیں، اس میں ہوتا ہے کہ جسم سے خون لے کر اس میں سے پلا ز مہ الگ کیا جاتا ہے پھر وہ سرپچ کے ذریعے بالوں کی جڑوں میں پہنچایا جاتا ہے، جس سے گنج پن دور ہوتا ہے اور بال اگ آتے ہیں؟

Answer (beginning)

PRP: انسانی خون کے ذریعے علاج کی شرعاً اجازت نہیں کیونکہ انسان کا خون جسم سے جدا ہونے کے بعد نجاست غلیظہ و حرام ہوتا ہے اور نجس و حرام چیز کو علاج و معالجے کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں، اللہ تعالیٰ نے حرام و نجس چیز میں شفا نہیں رکھی، اسی طرح جزء انسان سے انتفاع حاصل کرنے کی شریعت نے اس لیے بھی اجازت نہیں دی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکرم و محترم بنایا ہے اور اس کے جزء کے ذریعے علاج کرنا اس کی تکریم کے خلاف ہے، اگرچہ وہ جزء خود اسی مریض کے جسم کا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس کا استعمال اس کی تکریم کے خلاف ہے اور صورت مسئولہ میں تو یہ جزء ناپاک بھی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.