Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھُولے سے سورۂ فاتحہ کی جگہ کوئی اور سورت شروع کردیں تو یاد آنے پر حکم

Answered by
مولانا محمد سرفراز اختر عطاری
Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2024ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بجائے بھولے سے کوئی اور سورت شروع کر دی، پھر یاد آیا تو اب کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

فرض کی پہلی، دوسری رکعت اور باقی تمام نمازوں کی کسی بھی رکعت میں فاتحہ کے بجائے بھولے سے سورت شروع کر دی تو اس حوالے سے حکم کی تفصیل یہ ہے کہ: (1) اگر رکن کی ادائیگی کی مقدار (یعنی متاط) قول کے مطابق ایک ایسی آیت جو کم از کم چھ حرف پر مشتمل ہو اور صرف ایک کلمہ کی نہ ہو، پڑھنے سے پہلے ہی یاد آجائے کہ سورہ فاتحہ نہیں پڑھی، تو فوراً سورہ فاتحہ شروع کر دیں، پھر سورت ملائیں اور اس صورت میں سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو گا۔ (2) اگر رکن کی ادائیگی کی مقدار یا اس سے زیادہ پڑھ لینے کے بعد اور رکوع سے پہلے یاد آجائے، تو حکم یہ ہے کہ سورہ فاتحہ پڑھیں، پھر دوبارہ سورت ملائیں اور آخر میں سجدہ سہو کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.