Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بون چائنہ (Bone China) برتن استعمال کرنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ و ستمبر 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ چینی کے برتنوں میں ایسے برتن بھی آتے ہیں، جنہیں بون چائٹ (Bone China) کہتے ہیں، یہ ہڈیوں کو نہیں کر بنائے جاتے ہیں، ہمارے ملک میں ان کا استعمال عام ہے، مہربانی فرما کر بتائیں، کیا ہڈیوں سے بنے برتن استعمال کرنا، جائز ہے یا ناجائز؟
Answer (beginning)
انسان اور خنزیر کے علاوہ بقیہ جانداروں کی ہڈیوں کو نہیں کر بنائے گئے برتن استعمال کرنا، جائز ہے، اگرچہ وہ جاندار ماکول اللحم (جن کا گوشت کھایا جاتا ہے) ہوں یا غیر ماکول اللحم (جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا) ہوں، کیونکہ انسان اور خنزیر کے علاوہ باقی جانوروں کی ہڈیوں سے نفع حاصل کرنا، جائز ہے کہ ان جانوروں کی ہڈیاں پاک ہیں۔ چونکہ برتن بنانے کے طریقہ کار میں پہلے ہڈیوں کی صفائی کی جاتی ہے تاکہ اس پر گلی رطوبت ختم ہو جائے، تو اس رطوبت کے ختم ہونے کے بعد ہڈیاں جو کہ بذات خود پاک ہیں، ہر طرح کی نجاست سے پاک ہو جاتی ہیں، لہذا ان ہڈیوں سے بنے برتن استعمال کرنا، جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.