Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وفات کی عدت میں عورت کا نوکری کرنا کیسا ؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ دسمبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عدتِ وفات میں شرعی پردے کا لحاظ کرتے ہوئے عورت کا نوکری کرنے کے لئے گھر سے باہر جانا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

دورانِ عدتِ عورت کا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر عدتِ وفات ہو اور عورت کے پاس خرچے وغیرہ کے لیے رقم نہ ہو اور کسبِ حلال کے لیے باہر جانا پڑے، تو دن کے اوقات میں شرعی پردے کا لحاظ کرتے ہوئے جانے کی اجازت ہے جب کہ رات کا اکثر حصہ اپنے گھر میں آکر گزارے، لیکن اگر بقدرِ کفایت رقم موجود ہو یا گھر میں رہ کر ایسا جائز کسبِ اختیار کر سکتی ہے جس سے اپنے اخراجات پورے کر سکے، تو اسے نکلنے کی اجازت نہیں کہ عورت کے لیے نکلنے کا جواز صرف ضرورت کی بنا پر ہے اور جب ضرورت ہی محقق نہ ہو تو نکلنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.