Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والے خون کا حکم

Answered by
مفتی محمد ہاشم خان عطاری مدنی
Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ نومبر 2023

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی اہلیہ کا دو ماہ کا حمل ضائع (Miscarriage) ہو گیا اور دو دن تک خون جاری رہا اس کے بعد رک گیا تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید کی اہلیہ کا بچہ ضائع ہونے کی صورت میں جو دو دن تک خون آتا رہا وہ نفاس کا خون شمار ہو گیا یا حیض کا؟ نیز ان دنوں کی نمازوں کا کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

دریافت کردہ صورت میں حمل ضائع ہونے کے بعد دو دن تک جو خون آتا رہا وہ استحاضہ کا خون شمار ہو گا اور ان دنوں کی نمازیں اگر نہیں پڑھیں تو ان کی قضا کرنا لازم ہو گی۔ مسئلہ کی تفصیل: قوانین شرعیہ کے مطابق اگر عورت کا حمل 120 دن سے پہلے ساقط (Miscarriage) ہو جائے تو اگر معلوم ہو کہ حمل کا کوئی عضو جیسے انگلی یا ناخن یا بال وغیرہ بن چکا تھا، اس کے بعد حمل ضائع ہوا، تو آنے والا خون نفاس ہو گا، عورت نفاس کے احکام پر عمل کرے گی، کیونکہ اعضاء چار ماہ سے پہلے بننا شروع ہو جاتے ہیں جبکہ روح چار ماہ مکمل ہونے پر پھوٹکی جاتی ہے اور عضو بن جانے کے بعد حمل ضائع ہو جانے کی صورت میں آنے والا خون نفاس کا ہو تا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.