Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز سے پہلے امام اپنے مسافر ہونے کا اعلان کرنا بھول گیا، نماز میں یاد آیا تو۔۔۔

Answered by
مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
138
Issued
12 رجب المرجب 1441ھ / 08 مارچ 2020ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ امام مسافر تھا نماز کی نیت کر لی، لیکن نماز کے شروع میں مسافر ہونے کا اعلان کرنا یاد نہیں رہا، نماز کے دوران یاد آیا تو اب کیا کرے؟

Answer (beginning)

امام اگر مسافر ہو، تو اسے چاہیے کہ نماز کے شروع میں اپنے مسافر ہونے کا اعلان کر دے اور اگر شروع میں اعلان نہ کیا ہو، تو سلام پھیرنے کے بعد اعلان کر دے کہ اپنی نماز پوری کر لیں میں مسافر ہوں، اور اگر مسافر امام نماز کے شروع میں اعلان کر دے، جب بھی بہتر یہ ہے کہ نماز کے بعد دوبارہ اعلان کر دے کہ جو لوگ اس وقت موجود نہ تھے، انہیں بھی معلوم ہو جائے۔ امام کا اپنے مسافر ہونے کی خبر دینے کے متعلق در مختار میں ہے: ”وفي شرح الإرشاد ينبغي أن يخبرهم قبل شروعه وإلا فبعد سلامه (أن يقول) بعد التسليمتين في الأصح أتموا صلاتكم فإنني مسافر) لدفع توهم أنه سها“ یعنی: شرح ارشاد میں ہے کہ مسافر امام نماز شروع کرنے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.