Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر دوسری یا تیسری رکعت میں مقیم امام سے ملا تو باقی نماز ادا کرنے کا طریقہ
- Answered by
- مفتی فضیل رضاعطاری
- Fatwa no.
- 137
- Issued
- 21 ذوالقعدہ الحرام 1428ھ / 02 دسمبر 2007ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر مسافر مقیم کی اقتدا کرے یعنی دوسری یا تیسری رکعت میں مقیم امام سے ملے، تو اس صورت میں اسے مکمل نماز پڑھنی ہوگی یا قصر؟
Answer (beginning)
مسافر جب وقت نماز میں مقیم امام کی اقتدا کرے، تو مسافر کے فرض بھی چار ہوں گے، لہذا جب مسافر دوسری رکعت میں ملے، تو امام کے سلام کے بعد ایک رکعت پڑھے اور اگر تیسری میں ملے، تو دور رکعت پڑھے۔ چنانچہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”وقت ختم ہونے کے بعد مسافر مقیم کی اقتدا نہیں کر سکتا، وقت میں کر سکتا ہے اور اس صورت میں مسافر کے فرض بھی چار ہوں گے، یہ حکم چار رکعتی نماز کا ہے اور جن نمازوں میں قصر نہیں، ان میں وقت و بعد وقت دونوں صورتوں میں اقتدا کر سکتا ہے وقت میں اقتدا کی نماز پوری کرنے سے پہلے وقت ختم ہو گیا، جب بھی اقتدا صحیح ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.