Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقیم نے عشا کی نماز قصر پڑھی، تراویح و وتر کے بعد مقیم ہونا یاد آیا تو کیا حکم ہے؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
135
Issued
17 رمضان المبارک 1437ھ / 23 جون 2016ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص جو کہ مسافر تھا اس نے مقیم ہونے کے بعد غلطی سے عشا کے فرض دور کعت پڑھ لیے، تراویح اور وتر کی نماز بھی ادا کر لی، رات کو کافی دیر سے یاد آیا کہ میں، تو مقیم ہو چکا ہوں، اس لیے صرف فرض دوبارہ پڑھ لیے، اب سوال یہ ہے کہ تراویح اور وتر کا بھی اعادہ کرنا ہو گا یا نہیں؟

Answer (beginning)

حالتِ اقامت میں عشا کی نماز دور کعت ادا کرنے، نیز تراویح اور وتر پڑھنے کے بعد یاد آیا کہ میں مقیم ہوں، تو اس صورت میں فرض دوبارہ پڑھنا ضروری ہے اور وقت کے اندر تراویح کی نماز بھی دوبارہ پڑھی جائے گی۔ وقت ختم ہو گیا تو اب تراویح کی نماز کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔ وتر ہو گئے، وہ دوبارہ نہیں پڑھے جائیں گے۔ تبیین الحقائق میں ہے: ”لو تبیین ان العشاء صلوها بلا طهارة دون التراويح والوتر اعادوا التراويح مع العشاء دون الوتر“ ترجمہ: اگر بعد میں پتہ چلا کہ عشا کے فرض بغیر طہارت ادا کیے تھے نہ کہ تراویح اور وتر، تو عشا کے ساتھ تراویح کی نماز کا اعادہ کریں نہ کہ وتر کا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.