Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شرعی سفر میں کتنی دیر ٹھہرنا سفر کو منقطع کردے گا؟

Answered by
ابو محمد محمد سرفراز اختر عطاری
Fatwa no.
126
Issued
26/ج ا ثانی 1445ھ / 11 نومبر 2023ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسافر بننے کے لئے تین دن کے متصل سفر کی قید لگائی جاتی ہے، جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: "یہ بھی شرط ہے کہ تین دن کی راہ کے سفر کا متصل ارادہ ہو اگر یوں ارادہ کیا کہ مثلاً دو دن کی راہ پر پہنچ کر کچھ کام کرنا ہے، وہ کر کے پھر ایک دن کی راہ جاؤں گا، تو یہ تین دن کی راہ کا متصل ارادہ نہ ہو، مسافر نہ ہو۔" پوچھنا یہ ہے کہ سفر کے اتصال میں رکاوٹ بننے والے جس کام کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس سے کتنی دیر کا ٹھہرنا، مراد ہے؟ ایک عالم صاحب سے سنا ہے کہ ایک پوری رات مراد ہے یعنی اگر پوری رات ٹھہرنے، پھر آگے سفر کا ارادہ ہے، تو یہ سفر کو منقطع کرے گا اور اگر رات ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو، بلکہ گھنٹہ دو گھنٹہ یا چاہے بیٹھے گھنٹہ ہی کیوں نہ رکنا ہو، یہ سفر کو منقطع نہیں کرے گا اور بندہ مسافر ہی رہے گا۔ کیا یہ بات درست ہے؟

Answer (beginning)

سفر شرعی کے لئے تین دن کی مسافت یعنی 92 کلومیٹر یا اس سے زائد متصل سفر کا ارادہ ہو، یہ ضروری ہے۔ متصل سفر سے مراد یہ ہے کہ دوران سفر جہاں رکنا ہو، وہ ضمناً ہو جیسے نماز پڑھنے، کھانے پینے، آرام کرنے وغیرہ ایسے کاموں کے لئے رکنا ہو، جس کی عموماً سفر میں ضرورت پڑتی ہے اور اس ضمناً رکنے کا فقہائے کرام نے کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں فرمایا کہ اتنا ہو یا اتنا ہو، بلکہ اسے مطلق رکھتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ رکنے کے اس وقت کی کوئی حد بندی نہیں ہے، یہ رکنا گھنٹہ دو گھنٹہ بھی ہو سکتا ہے اور پورا دن یا پوری رات بھی ہو سکتا ہے اور اس سے سفر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.