Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
متبوع کی نیت کا اعتبار ہے، نیز تنخواہ دار اوردِہاڑی دار ملازم کےحکم میں فرق
- Answered by
- ابوسعید محمد نوید رضاعطاری
- Fatwa no.
- 121
- Issued
- 19 جمادی الاول 1444ھ / 14 دسمبر 2022ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں سعودی شہر قصیم میں شیخ کا ڈرائیور ہوں اور میری رہائش بھی شیخ کے ساتھ قصیم میں ہے۔ شیخ کا جب بھی سفر ہوتا ہے، تو مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس شہر جاتا ہے اور کہاں کہاں رُکنا ہے لیکن اکثر یہ معلوم نہیں ہوتا، کہ وہاں قیام کتنے دن کا ہے۔ شیخ سے اس کی نیت پوچھنا ممکن نہیں۔ جب مجھے معلوم ہے کہ مجھے شرعی سفر سے زیادہ سفر کرنا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر قیام کتنے دن کرنا ہے، یہ معلوم نہیں، تو اس صورت میں مکمل نماز پڑھوں گا یا قصر؟ یا میں اپنی الگ سے نیت کروں؟
Answer (beginning)
صورتِ مسئولہ میں اصل اعتبار شیخ کی نیت کا ہے، آپ کی اپنی نیت کا اعتبار نہیں کہ آپ اس کے ملازم ہونے کی وجہ سے احکاماتِ سفر میں اس کے تابع ہیں، لہذا شرعی مسافت پر جانے کے بعد اگر شیخ نے پندرہ دن سے زائد ٹھہرنے کی نیت کر لی، تو وہ مقیم ہو جائے گا اور اس کے تابع ہونے کی وجہ سے آپ بھی مقیم ہو جائیں گے، لیکن یہ حکم اس وقت ہے کہ جب آپ کو اپنے شیخ کی نیت اقامت کا علم ہو، ورنہ آپ شرعی مسافت پر جانے کے بعد مسافر ہی رہیں گے اور آپ پر نماز میں قصر کرنا واجب ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.