Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وطن کی اقسام اور ان کے احکام؟ وطن سکنٰی کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟
- Answered by
- ابو صدیق محمد ابوبکر عطاری
- Fatwa no.
- 118
- Issued
- 04 ربیع الثانی 1444ھ / 31 اکتوبر 2022ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید اپنے شہر گوجرانوالہ سے اولاً مرید کے جائے گا جو کہ شرعی سفر نہیں بنتا، مرید کے شہر میں صرف دو دن رہے گا، پھر وہاں سے آگے کراچی کے لیے روانہ ہو گا، پھر کراچی میں 15 دن سے زیادہ قیام کرے گا، پھر وہاں سے ڈائریکٹ گوجرانوالہ اپنے وطن اصلی میں آئے گا اور راستے میں مرید کے بھی آئے گا، مگر واپسی پر اس کو مرید کے میں کوئی کام نہیں ہو گا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ زید جیسے ہی مرید کے میں شرعی سفر کی نیت کر لے گا، تو اسی وقت مسافر ہو جائے گا کہ مرید کے اس کا وطن اصلی نہیں یا سفر کے ارادے سے جب مرید کے شہر کی آبادی سے باہر نکلے گا، تب سے نماز قصر کرنی شروع کرے گا؟ اور واپسی میں جب مرید کے سے گزرے گا، تو مرید کے کی آبادی میں پوری نماز پڑھے گا یا قصر؟
Answer (beginning)
اپنے سوال کے براہ راست جواب سے پہلے کچھ اصول ذہن نشین فرمائیجئے تاکہ جواب کو سمجھنا آسان ہو جائے۔ (1) وطن کی تین قسمیں ہیں: (الف) وطن اصلی: اس سے مراد کسی شخص کی وہ جگہ ہے جہاں اس کی پیدائش ہے یا اس کے گھر کے لوگ وہاں رہتے ہیں یا وہاں سکونت کرنی اور یہ ارادہ ہے کہ یہاں سے نہ جائے گا۔ جیسا کہ صورت مسئولہ میں زید کے لیے شہر گوجرانوالہ وطن اصلی ہے۔ (ب) وطن اقامت: اس سے مراد وہ جگہ ہے کہ جہاں مسافر پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کے ارادے سے قیام کرے۔ جیسا کہ صورت مسئولہ میں زید کے لیے شہر کراچی وطن اقامت ہے۔ (ج) وطن سکنی: اس سے مراد، جو وطن اصلی واقعات نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.