Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مرد کے لیے سسرال اور بیوی کے لیے میکا وطن اصلی ہیں؟

Answered by
ابومحمد محمد سرفراز اختر عطاری
Fatwa no.
110
Issued
08 صفر 1442ھ / 26 ستمبر 2020ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ وطن اصلی کی صورتوں میں سے ایک صورت بہار شریعت وغیرہ میں یہ بھی پڑھی تھی کہ آدمی جہاں سے شادی کر لے وہ جگہ بھی اس کی وطن اصلی ہو جاتی ہے۔ یہ مسئلہ پڑھا ہوا تو تھا لیکن اس کی طرف کبھی توجہ نہیں گئی اور اب جب غور کیا ہے تو اس سے ظاہر آج معنی سمجھ آتا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی کا سسرال بھی اس کے لیے وطن اصلی ہو گا اور اسے وہاں پوری نماز پڑھنی ہوگی۔ اگر اس مسئلہ کا یہی مفہوم ہے، تو میرے خیال میں اس کی طرف عام عوام تو کیا بڑے بڑے علماء کی بھی توجہ نہیں کہ کسی کو بھی اس پر عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ برائے کرم اس کی وضاحت فرمادیں۔ میں نے ڈیرہ غازی خان سے شادی کی ہے اور بیوی بچوں سمیت میری مستقل رہائش ملتان کی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ میں جب ڈیرہ غازی خان جاؤں گا قصر کروں گا یا پوری نماز پڑھوں گا؟ ابھی تک میرا عمل یہ رہا ہے کہ میں وہاں قصر کرتا رہا ہوں۔

Answer (beginning)

آدمی جہاں سے شادی کر لے تو اگرچہ مفتی بہ قول کے مطابق اس جگہ کے وطن اصلی ہونے کے لئے شوہر کی وہاں مستقل سکونت ہونا ضروری نہیں جیسا کہ یہ تفصیل نیچے تنبیہ میں آرہی ہے، مگر یہ ضروری ہے کہ بیوی کی وہیں مستقل رہائش ہو اور یہ سمجھا جائے کہ شوہر کے اہل خانہ یہاں رہتے ہیں۔ یہ ہر گز مطلب نہیں کہ چاہے بیوی رخصت ہو کر شوہر کے ساتھ دوسری جگہ آگئی، تب بھی وہ جگہ شوہر کے لئے وطن اصلی ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.