Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس بستی کی آبادی شہرکے ساتھ متصل ہوچکی، اب وہ شہرکے حکم میں ہے یا نہیں؟

Answered by
محمد عرفان مدنی
Fatwa no.
101
Issued
21 محرم الحرام 1441ھ / 21 ستمبر 2019ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 1. (1) ایک بستی کی آبادی اگر شہر سے دور ہو بعد میں شہر کی آبادی کے ساتھ متصل ہو جائے، تو ایسی صورت میں شہر والوں کے لیے اور اس بستی والوں کے لیے قصر کہاں سے شروع ہوگی؟ 2. (2) کاہنہ نو کی آبادی لاہور شہر کے ساتھ بالکل متصل ہے، ایسی صورت میں کاہنہ نو کار ہاشمی لاہور کراس کرنے کے بعد قصر شروع کرے گا یا صرف کاہنہ نو کی آبادی کراس کرتے ہی شروع کر دے گا؟

Answer (beginning)

1. (1) جس بستی کی آبادی شہر کے ساتھ متصل ہو چکی، اب وہ شہر کے ہی حکم میں ہو چکی، لہذا شہر والے اس بستی کو کراس کر کے قصر شروع کریں گے اور اس بستی والے شہر کو کراس کر کے قصر شروع کریں گے۔ ردالمحتار میں ہے: "بیشتر طمفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصرو هو ما حول المدينة من بيوت و مساكن فإنه في حكم المصرو كذا القرى المتصلة بالربض في الصحيح، بخلاف البساتين، ولو متصلة بالبناء لأنها ليست من البلدة ولو سكنها أهل البلدة في جميع السنة أو بعضها، ولا يعتبر سكنى الحفظة والأكرة اتفاقا إمداد" ترجمہ: جو چیزیں مقام اقامت کے توابع میں سے ہیں قصر کے لیے ان سے نکل جانا شرط ہے، توابع کی مثال ربض مصر ہے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.