Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر جس سمت میں جا رہا ہے اسی سمت میں شہر کی حد ختم ہونے کا اعتبار ہے
- Answered by
- مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 99
- Issued
- 07 جمادی الثانی 1436ھ / 28 مارچ 2015ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید شہر کے شمال کی جانب رہتا ہے اور شمال کی جانب اگر وہ مسافت سفر کے لیے جائے، تو ایک کلو میٹر فاصلہ طے کرنے کے بعد شہر کی حد ختم ہو جاتی ہے، اور اگر وہ جنوب کی طرف سفر کو جائے، تو 7 کلو میٹر طے کرنے کے بعد شہر کی حد ختم ہو جاتی ہے، اب اگر زید جنوب کی طرف ہی سفر کو جائے، تو کیا وہ 7 کلو میٹر طے کرنے کے بعد ہی مسافر بنے گا یا پھر ایک کلو میٹر طے کرنے کے بعد وہ مسافر ہو جائے گا، اگرچہ شہر کی حدود میں ہو؟
Answer (beginning)
مسافر جس سمت میں جا رہا ہے اسی سمت میں شہر کی حد ختم ہونے کا اعتبار ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب زید جنوب کی طرف جائے گا، تو جنوب کی سمت میں جب شہر کی حد ختم ہو گی یعنی 7 کلو میٹر طے کرنے کے بعد وہ مسافر بنے گا، اس سے پہلے نہیں بنے گا۔ محیط برہانی میں ہے: ”یعتبر الجانب الذي منه يخرج المسافر من البلدة، لا الجوانب الذي يحذاء البلدة حتى أنه إذا خلف البنیان الذي خرج منه قصر الصلاة، وإن كان يحذاءه بنیان أخرى من جانب آخر من المصر“ ترجمہ: مسافر ہونے کے لیے اس جانب کا اعتبار ہے جس جانب سے مسافر شہر سے خارج ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.