Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافت سفر 92 کلو میٹر ہونے پر دلائل اور تین میل والی حدیث کا جواب

Answered by
محمد عرفان مدنی
Fatwa no.
95
Issued
08 شعبان / 1439ھ / 25 اپریل 2018ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ 92 زید کا کہنا ہے کہ نماز قصر کرنے کے لیے 92 کلومیٹر پر کوئی حدیث نہیں ہے، بلکہ احادیث میں تو تین میل کا ذکر آتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے مؤقف پر درج ذیل روایات بیان کرتا ہے: (الف) صحیح مسلم میں ہے: "عن يحيى بن يزيد الهنائي، قال: سألت أنس بن مالك، عن قصر الصلاة، فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خرج مسيرة ثلاثة أميال، أو ثلاثة فراسخ، شعبة الشاك، صلى ركعتين" ترجمہ: یحییٰ بن یزید بنانی نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نماز میں قصر کے متعلق سوال کیا، تو فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تین میل کی مسافت کے لیے تشریف لے جاتے یا تین فرسخ کی مسافت کے لیے (شعبہ کو شک ہوا) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دور کعات ادا فرماتے۔ (ب) سنن ابی داؤد میں ہے: "عن منصور الكلبي، أن دحية بن خليفة خرج من قرية من دمشق مرة إلى قدر قرية عقبة من الفسطاط، وذلك ثلاثة أميال في رمضان، ثم إنه أفطر۔" (الحدیث) ترجمہ: منصور الكلبي سے مروی ہے کہ دحیہ بن خلیفہ ایک مرتبہ دمشق کی بستی سے فسطاط کی بستی عقبہ کی مقدار کے برابر مسافت پر تشریف لے گئے، اور رمضان میں یہ تین میل کا سفر تھا تو انہوں نے افطار کیا۔" (الحدیث)۔

Answer (beginning)

ذیل ہے: (الف) مسلم شریف کی روایت کی ایک توجیہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ خاص واقعہ کا کاذکر ہے یہ واقعہ حقیقت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طویل سفر کا واقعہ ہے اور سفر میں قصر کہاں سے شروع کی یہ اس کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مدینہ شریف سے اتنے میل سفر کر لیا، تو نماز میں قصر کی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.