وراثت کی تقسیم

بہارِ شریعت میں بیان ہے کہ وصیت کے بعد بچ جانے والا مال کس ترتیب سے تقسیم ہوگا، جس کی ابتدا ان وارثوں سے ہوتی ہے جن کے حصے قرآن، حدیث یا اجماعِ امت سے مقرر ہیں۔ وراثت پر ایک رسالے میں ذکر ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے عرب عورتوں اور بچوں کو وراثت سے محروم رکھتے تھے۔ ایک فتوے میں ایسے لاپتہ شخص کی وراثت پر گفتگو ہے جس کی موت و حیات کا علم نہ ہو، کہ اس کی موت کا حکم کب دیا جائے، اور اس بارے میں مختلف اقوال ذکر کیے گئے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ میں ایسے ترکے کی تقسیم سے متعلق ایک سوال بھی درج ہے جس پر قرض اور بیوی کا دینِ مہر باقی ہو۔

کتب سے

  • Bahar E Shariat Jild 3 B

    صفحات 467–468

    ) www.dawateislami.net وراثت کا بیان 1112 بہار شریعتِ خطبہ (20) جائز ہے۔ (۱) (خانیہ بحوالہ عالمگیری ج ۶ ص ۳۲۷) میراث: وصیت کے بعد جو مال بچا ہو اس کی تقسیم درج ذیل ترتیب کے ساتھ عمل میں آئے گی۔ ① ان وارثوں میں تقسیم ہوگا جو قرآن، حدیث یا اجماع امت کی رو سے اصحابِ فرائض (مقررہ حصوں والے) ہیں اگر اصحابِ فرائض بالکل نہ ہوں یا ان کے بعد بھی کچھ مال بچا ہو تو درج ذیل وارثوں میں علی الترتیب تقسیم ہوگا۔

  • Don’t be Deceitful about Inheritance

    صفحات 6–9

    ted amongst the relatives of the deceased in accordance with specific rules and laws Different nations of the world have different methods to distribute Wnw canateislami،net الشًّیُطُنِ الرِّجِمِ Day, مُحمِّد Any Don be Deceitful about Inheritance inheritance The Arabs of the pre Islamic era of ignorance used to deprive women and children of inheritance The powerful and the influential amongst…

  • Usool e Wirasat

    صفحات 22–24

    ت کے عصبہ نسبیہ یعنی میت کے قریبی مذکر رشتہ داروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر وہ وارث جو اصحاب فرائض سے بچ جانے والا مال لے اور اکیلا ہونے کی صورت میں سارا مال لے، اسے عصبہ نسبیہ کہا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کے عصبات نسبیہ نہ ہوں تو اس کا مال اس عصبہ کو دیا جائے گا جو سبب کی جہت سے ہو، جسے عصبہ سبیہ کہا جاتا ہے۔

  • Aurat Aur Quran

    صفحات 370–371

    اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کیا جانا ہو جس كللَةٌ أَوِ امْرَأَةٌ وَلَةٌ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا اَ كَثَرَ مِنْ ذلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ نے ماں باپ اور اولاد میں سے ) کوئی نہ چھوڑا اور (صرف) ماں کی طرف سے اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہو گا پھر اگر وہ ماں کی طرف والے) بہن بھائی ایک سے في القُلثِ مِنْ…

  • Sirat Ul Jinan Jild 2

    صفحات 182–183

    انہیں دیکھ لیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہاں بیان کردہ حصوں کے ساتھ بہت سے اصول وقواعد کو ملا کر میراث کا مسئلہ حل کیا جاتا ہے لہذا مزید تفصیلات کے لئے میراث کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ نیز یہاں تفسیر میں تمام ورثاء کے حالات بیان نہیں کئے گئے جبکہ صرف ان کے بیان کئے ہیں جن کی صورت یہاں آیات میں مذکور ہے۔

بیانات میں

تجارت، مال اور وراثت کے مزید موضوعات

اس صفحے پر لائبریری کے شائع شدہ ماخذ کا مواد درج ہے۔ اپنے مسئلے کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔