مسافر کی نماز

متعدد فتاویٰ میں یہ بیان ہے کہ کوئی شخص کب شرعی مسافر بنتا ہے اور نماز میں قصر کرتا ہے۔ ان میں وضاحت ہے کہ گھر سے نکلتے وقت تین دن کی راہ، یعنی تقریباً 92 کلومیٹر کے متصل سفر کا ارادہ ضروری ہے، اور راستے میں نماز، کھانے یا آرام کے لیے ضمنی طور پر رکنا، یا چند منٹ کسی دوست سے ملاقات کر لینا، اس اتصال کو نہیں توڑتا۔ دیگر فتاویٰ میں یہ مسائل ہیں کہ 92 کلومیٹر سے کم کے دو الگ سفر مل کر زیادہ ہو جائیں تو کیا حکم ہے، اور جو آدھے راستے سے وطن لوٹ آئے اس کی نمازوں کا کیا حکم ہے۔

فتاویٰ

  • متفرق طور پر 92 کلو میٹر سے زائد سفر کرنے والا مسافر نہیں

    ذهب لطلب أبق أو غريم ولم يعلم أين يدر كه أتم في الذهاب وفي موضع المكث وإن طالت المدة أما في الرجوع فإن كانت مدة سفر قصر وإلا“ یعنی اگر ساحت کا قصد ہو یا لشکر دشمن کی تلاش میں گیا یا بھگوڑے یا مقروض کی تلاش کے لئے گیا اور معلوم نہیں کہ اسے کہاں پائے گا، تو جانے میں اور ٹھہرنے کی جگہ میں نماز پوری پڑھے گا اگرچہ مدت طویل ہو جائے، بہر حال واپسی میں اگر سفر کی مدت ہو، تو قصر کرے گا ورنہ نہیں۔

کتب سے

  • Fatawa Ahlesunnat Musafir Ki Namaz Ke Ahkam

    صفحات 6–8

    میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ شاید ہی دنیا میں کوئی شخص ایسا ہو جسے زندگی میں کبھی سفر در پیش نہ ہوا ہو ۔ اللہ کریم نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت پر کئی احکام میں آسانی فرمائی ہے اور انہی احکام میں سے مسافر کے لیے نماز میں قصر کرنے کا حکم بھی ہے جو کہ اختیاری نہیں بلکہ وجوبی ہے ، لہذا فی زمانہ اگر چہ پہلے ادوار کے مقابلے میں سفر نہایت آسان و آرام دہ ہو چکا ہے اور جدید ذرائع آمد ورفت کی…

  • Golden Words of Imam Ghazali رحمۃُ اللہِ علیہ - Part 02

    صفحات 18–21

    537 14 WIW dawateislami net رضِی الڈۂ happy would seeing day Golden Words of Imam al Ghazali )Part 2 ( رحُمةُ اللهِ عًلّيُه The Holy Prophet صئئ اللدعليدِ والِه وسلم said: ` When any of you leads people in prayer, keep itshort because among them may be the weak, the elderly, and those who have work and responsibilities Explanation: The meaning of a shortened prayer is that it should be brief…

  • Sirat Ul Jinan Jild 2

    صفحات 329–331

    بنتی ہے۔ (4) قصر صرف فرضوں میں ہے سنتوں میں نہیں اور سفر میں سنتیں پڑھنی چاہئیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رجبی الله تعالى نا فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضر کی نماز اور سفر کی نماز کو فرض فرمایا تو ہم حضر میں فرض نماز سے پہلے بھی نماز پڑھا کرتے تھے اور بعد میں بھی اور سفر میں فرض نماز سے پہلے بھی نماز پڑھا کرتے تھے اور بعد میں بھی۔

بیانات میں

نماز کے مزید موضوعات

اس صفحے پر لائبریری کے شائع شدہ ماخذ کا مواد درج ہے۔ اپنے مسئلے کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔