زکوٰۃ کے مستحق
یہ مآخذ اس بات سے متعلق ہیں کہ زکوٰۃ کسے دی جا سکتی ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں مصرفِ زکوٰۃ ہر اس حاجت مند مسلمان کو بتایا گیا ہے جس کے پاس حاجاتِ اصلیہ سے فارغ بقدرِ نصاب مال نہ ہو، بشرطیکہ وہ نہ ہاشمی ہو، نہ اپنا شوہر یا بیوی، نہ اپنی اولاد جیسے بیٹا بیٹی اور پوتا پوتی، اور نہ وہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے ماں باپ اور دادا دادی۔ ایک فتوے میں وضاحت ہے کہ غیر مسلم کو، خواہ وہ کتنا ہی غریب ہو، زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ زکوٰۃ پر دارالافتاء اہلِ سنت کی ایک ریکارڈ شدہ قسط بھی شامل ہے۔
یہ جائزہ ان ماخذ پر مبنی ہے
کتب سے
- Fatawa-e-Ahl-e-Sunnat Ahkam-e-Zakat
صفحات 415–417
سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان عليه الرحمه ( کس کو زکوۃ دینا جائز ہے اور کس کو جائز نہیں ) اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : " مصرف زکوۃ ہر مسلمان حاجت مند جسے اپنے مال مملوک سے مقدار نصاب فَارِعْ عَنِ الْحَوَائِجِ الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو، نہ اپنا شوہر، نہ اپنی عورت اگر چه طلاق مغلظہ دے دی ہو جب تک عدت سے باہر نہ آئے ، نہ وہ جو اپنی اولاد میں ہے جیسے بیٹا، بیٹی ،…
- Fatawa Razawiyya jild 10
صفحات 250–251
اللہ ہم اجمعین زکوٰۃ کن کن مصارف میں دینا جائز ہے؟ بینوا تو جروا۔ ### الجواب: مصرف زکوٰۃ ہر مسلمان حاجتمند جسے اپنے مال مملوک سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو، نہ اپنا شوہر، نہ اپنی عورت، اگرچہ طلاق مغلظ دے دی ہو جب تک عدت سے باہر نہ آئے، نہ وہ جو اپنی اولاد میں ہے جیسے بیٹا، بیٹی، پوتاپوتی، نواسانوامی، نہ وہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے ماں باپ، دادا دادی…
- 95 Pearls of Wisdom from Tafsīr Nūr al ꜤIrfān (Part 6)
صفحات 26–29
لام would seek forgiveness for forgetting to perform recommended actions Zakat Was not obligatory upon any Prophet The statement of Prophet sa عليدِالشلآم in which zakat is mentioned refers to purification of the soul واوُصُنِیُ بِالصِّلُوةِ و الزّکوةِ TafsIr Nur al- Irfan, p. 546 TafsIr Nur al- Irfan, p. 547 TafsIr Nur al- Irfan, p. 547 TafsIr Nur al- Irfan, p. 837 TafsIr Nur al- Irfan, p.
- Majmua e Tasaneef
صفحات 334–336
ایک ہی شخص کو ساری زکوۃ دے دینا زکوۃ دینے والے کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو مال زکوۃ تمام مصارف زکوة میں تھوڑا تھوڑا تقسیم کر دے اور اگر چاہے تو کسی ایک کو ہی دے دے ۔ اگر بطور زکوۃ دیا جانے والا مال بقدر نصاب نہ ہوتو ایک ہی شخص کو دے دینا افضل ہے اور اگر بقدر نصاب ہو تو ایک ہی شخص کو دے دینا مکروہ ہے لیکن زکوۃ بہر حال ادا ہو جائے گی ۔
بیانات میں
- Islam - Muslim Law - Sharia Law - Darul Ifta Ahl e Sunnat Ep 1162 - دارالافتاء اہلسنت6:20 سے دیکھیں
- Darul Ifta Ahl e Sunnat Episode 1506 | Zakat - زکوٰۃ21:41 سے دیکھیں
- Darul Ifta Ahl e Sunnat Episode 2315 | 08 April 2026 | Mufti Kafeel Attari Madani2:51 سے دیکھیں
- Islam - Muslim Law - Sharia Law - Darul Ifta Ahl e Sunnat Ep 1159 - دارالافتاء اہلسنت32:19 سے دیکھیں
- Darul Ifta Ahl e Sunnat Episode 1509 | 25 March 20202:09 سے دیکھیں
- Islam | Sharia Law | Darul Ifta Ahl e Sunnat Ep 1202 | Muslim Law | دارالافتاء اہلسنت18:58 سے دیکھیں
زکوٰۃ و صدقات کے مزید موضوعات
اس صفحے پر لائبریری کے شائع شدہ ماخذ کا مواد درج ہے۔ اپنے مسئلے کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔