عمرہ کا طریقہ
یہ مآخذ عمرہ کے اعمال اور مقامات سے متعلق ہیں۔ فتاویٰ رضویہ میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کا مرحلہ وار بیان ہے، جس میں راستے کی ایک دعا اور مروہ پر صفا کی طرح کعبہ کی طرف رُخ کرنے کا ذکر ہے، اور یوں ایک پھیرا مکمل ہوتا ہے۔ مکہ کی مساجد پر ایک کتاب میں ہے کہ حرم کی حدود سے باہر واقع مسجدِ تنعیم، جسے مسجدِ عائشہ بھی کہا جاتا ہے، میں خوش نصیب زائرین عمرہ کا احرام باندھتے ہیں۔ ایک فتوے میں وضاحت ہے کہ ایک عمرہ دونوں مرحوم والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
یہ جائزہ ان ماخذ پر مبنی ہے
کتب سے
- Umrah Ke Baray Me Suwal Jawab (Baraye Khawateen)
صفحات 7–10
ِكَ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم چیف ایڈیٹر شعبہ ماہنامہ خواتین (دعوت اسلامی) 6 ________________ عمرے کا مختصر طریقہ ________________ عمرے کا مختصر طریقہ عمرہ کا مختصر طریقہ آفاقی یعنی میقات کی حدود کے باہر سے آنے والی، میقات سے اور مکے میں پہنچ کر دوبارہ عمرہ کرنے کا ارادہ کرنے والی، حدود حرم کے باہر سے مثلاً مسجد عائشہ سے احترام باند ھے ، پاک صاف ہو کر غسل کر کے ، ناخن وغیرہ…
- Fatawa Razawiyya jild 10
صفحات 750–751
سے نکل جائیں، اس درمیان میں سب دعا کہہ کر شش تمام کرو۔ یہاں کی دعا یہ ہے: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْ وَأَنْتَ الْكُفَّارُ الْأَكْرَمُ$^{۱}$۔ (۲۳) دوسرے میل سے نکل کر پھر آہستہ ہو لو یہاں تک کہ مردہ پہنچو، یہاں پہلی سیڑھی چڑھنے بلکہ اس کے قریب کھڑے ہونے سے مردہ پر صعود مل جاتا ہے، یہاں اگرچہ عمارتیں بن جانے سے کعبہ نظر نہیں آتا مگر روبہ کعبہ ہو کر جیسا صفا پر کیا تھا کرو، یہ ایک پھیرا ہوا۔
- Masjids of Mecca
صفحات 14–17
ُ يلهِعِلی اِحُسانِه It was the practice of Shaykh ' Abd al Wahhab Muttaqi to fast and then walk to Jirana, to enter the ihram of ` umrah 2 مُحمِّد صلِیا صُوُاعلی الُحبِیِب Masjid al Tanfim This masjid is located around 7 kilometres from Masjid al- Haram, outside the Haram boundaries It is also known as Masjid Aisha fortunate pilgrims tie their `umrah ihrams here Ibid, Akhbar al Akhyar, p 278 (…
- Ihya ul Uloom jild 1
صفحات 757–758
اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے صرف حج کرے، جب فارغ ہو تو حل کی طرف ( یعنی حدود حرم سے باہر نکل جائے اور احرام باندھ کر عمرہ کرے۔ عمرہ کے احرام کے لئے حل میں افضل جگہ جعرانہ ہے پھر تنعیم پھر حدیبیہ۔ حج افراد کرنے والے پر قربانی لازم نہیں بلکہ نفل ہے۔ 2 حج قران: اس کا طریقہ یہ ہے کہ حج و عمرہ کو جمع کرے اور کہے میں حج و عمرہ کے ساتھ حاضر ہوں۔
بیانات میں
حج، عمرہ اور قربانی کے مزید موضوعات
اس صفحے پر لائبریری کے شائع شدہ ماخذ کا مواد درج ہے۔ اپنے مسئلے کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔